جاپان، امریکہ اور جنوبی کوریا کا مقابلہ کرنے کے لیے شمالی کوریا اتحاد تشکیل دے رہا ہے: جاپانی ماہر

جزیرہ نما کوریا کے امور کے ایک جاپانی ماہر کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن روسی صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ جامع تزویراتی شراکتداری کے معاہدے پر دستخط کر کے بظاہر جاپان، امریکہ اور جنوبی کوریا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اتحاد تشکیل دینا چاہتے ہیں۔

نان زان یونیورسٹی کے پروفیسر ہیرائیوا شُنجی، صدر پوٹن کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران جناب کِم کی جانب سے ’’اتحاد‘‘ پر زور دینے کا ذکر کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا پہلے ہی چین کا اتحادی ہے۔

پروفیسر ہیرائیوا نے کہا کہ دوسری جانب صدر پوٹن نے اتحاد کا کوئی حوالہ نہیں دیا، بلکہ دو طرفہ تعلقات کو مزید جامع انداز میں مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ شمالی کوریا کے لیے فوجی امداد کا حوالہ دیتے وقت مغربی اقوام کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی روس کے مد نظر تھی۔

پروفیسر ہیرائیوا نے مزید کہا کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان دوطرفہ تعاون میں اضافے کو جاپان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کے فوجی تعاون میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوتا ہے تو اس سے شمالی کوریا اپنے پانچ سالہ قومی دفاعی منصوبے کے بڑے اہداف حاصل کر لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جاپان کو امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ تعاون کو تقویت دینی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ چین کو علاقائی سلامتی میں کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے۔