این ایچ کے انٹرویو: آنگ سان سوچی کے بیٹے کی مدد کے لیے اپیل

میانمار کی جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سوچی بدھ کو 79 برس کی ہو گئیں۔ نوبل امن انعام یافتہ محترمہ سوچی کو میانمار کی فوج نے 2021 میں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد حراست میں رکھا ہوا ہے۔

ان کے فرزند، کم ایرس اس وقت برطانیہ میں مقیم ہیں۔ این ایچ کے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اپنی والدہ کے اتے پتے کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ محترمہ سوچی کے حامیوں سمیت کچھ افراد سے کبھی کبھار یہ سننے کو ملتا ہے کہ انہیں جیل کی کوٹھری سے کسی نہ کسی شکل میں گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے، لیکن پھر سنتے ہیں کہ یہ خبر غلط ہے۔ لہذا اس وقت، ان کا خیال ہے کہ وہ اب بھی نیپیدو میں قید ہیں۔

آنگ سان سوچی کو فوج کی طرف سے چلائے جانے والے بے ضابطہ مقدمات میں بدعنوانی اور دیگر الزامات میں قصوروار پائے جانے کے بعد برسوں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ایرس نے بتایا کہ والدہ کی ناسازی طبعیت کا سننے کے بعد انہوں نے اپنی والدہ کو وٹامنز، دوائیں اور کھانے پینے کی اشیا بھجوائی تھیں، جن میں کچھ چاکلیٹس بھی شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں جنوری میں "ان کا کاغذ پر تحریر کردہ خط" ملا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں والدہ کی طرف سے ملنے یا ان کے بارے میں آنے والا یہ پہلا خط تھا۔

انہوں نے کہا کہ جاپان سمیت دیگر ممالک کے لوگوں کو اپنی حکومتوں پر بامعنی اقدام کرنے اور میانمار میں جمہوریت کی حمایت جاری رکھنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔