صنفی بنیادوں پر مساوی الرٹ سسٹم نافذ کیا جائے: یو این دفتر سربراہ

آفات کے خطرات میں کمی کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر کے سربراہ نے ہر ایک کو معلومات تک رسائی کی فراہمی پر مبنی انتباہی نظام قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ قدرتی آفات میں مردوں کے مقابلے خواتین زیادہ المناک صورتحال کا شکار ہوتی ہیں کیونکہ قبل از وقت جاری ہونے والی انتباہی معلومات ان تک نہیں پہنچ پاتی ہیں۔

آفات کے خطرات میں کمی کے لیے خصوصی نمائندے کمال کشور نے منگل کو ٹوکیو میں یہ بات این ایچ کے سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

جناب کشور نے کہا کہ "بدلتی ہوئی آب و ہوا سے آفات میں اضافہ ہو رہا ہے"، جو نہ صرف لوگوں کی زندگیوں اور ذریعۂ معاش پر اثر انداز ہو رہا ہے، بلکہ پوری ثقافتی برادری کو بھی متاثر کر رہا ہے کیونکہ آبادیاں نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ہیں۔

جناب کشور نے نشاندہی کی کہ خواتین ان ممالک میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا شکار ہیں جہاں معاشرے میں خواتین کی شرکت مردوں کے مقابلے میں کم ہو۔ انہوں نے کہا، مثال کے طور پر اگر عورتیں گھر کی دیکھ بھال کر رہی ہوں جب کہ مرد باہر کام کر رہے ہوں، تو قریب آنے والے طوفان کی خبر ان خواتین کو سب سے آخر میں ملنے کا امکان ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ قدرتی آفات سے بچاؤ کا نظام قائم کرتے وقت خواتین اور معمر افراد اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

جناب کشور نے کہا، "جاپان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک راہنما کا کردار ادا کرتے ہوئے، اپنے تجربے کو دنیا کے ساتھ "بہت فراخدلی اور کھلے دل سے شیئر کرتا ہے، جس سے دنیا کو بہت فائدہ پہنچ رہا ہے"۔