یوکرین امن سربراہ اجلاس کے مندوبین کا مشترکہ اعلامیہ

یوکرین میں امن لانے کے لیے منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے مندوبین نے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا ہے جس میں جوہری بجلی گھروں کی حفاظت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

یوکرین کے پیش کردہ امن منصوبے پر بات چیت کے لیے منعقدہ دو روزہ سربراہ اجلاس اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں اختتام پذیر ہوا۔ اس میں تقریباً 100 ممالک اور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شرکاء نے تین شعبوں میں ٹھوس اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا جن میں جوہری بجلی گھروں کی حفاظت اور غِذائی سلامتی شامل ہے۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ سربراہ اجلاس اس امر کا عکاس ہے کہ بین الاقوامی حمایت کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہو رہی ہے۔

انہوں نے امن منصوبے پر عملدرآمد اور دوسری امن سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے لیے عملی منصوبہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

سوئٹزرلینڈ کی صدر وائلا ایمہرڈ نے سربراہ اجلاس کی اہمیت پر زور دیا۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اہم سوال ابھی باقی ہے کہ روس کو اس عمل میں کیسے اور کب شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا حل میں دونوں فریقوں کو شامل ہونا چاہیے۔

اجتماعی طور پر گلوبل ساؤتھ کے نام سے معروف، ابھرتے ہوئے ممالک سے آنے والے شرکاء نے سربراہ اجلاس کے دوران، روس کی شرکت کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ماسکو کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔

جاپان کے قومی سلامتی سیکرٹریٹ کے سیکرٹری جنرل آکِیبا تاکےاو نے صحافیوں کو بتایا کہ سعودی عرب اور بھارت سمیت تقریباً 10 ممالک نے اس اعلامیے کی حمایت نہیں کی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سربراہ اجلاس میں روس اور چین کی شرکت کے بغیر امن کی راہ ہموار کرنے میں دشواری کا انکشاف ہوا ہے۔ یاد رہے کہ چین، روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے امن مذاکرات کے لیے جمعے کے روز اپنی شرائط پیش کی تھیں۔ ان شرائط میں اُن چار خطوں سے یوکرینی فوجیوں کا مکمل انخلاء شامل ہے جن کا روس نے 2022ء میں یکطرفہ طور پر اپنے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔