تائیوانی فوج کا مِشن آبنائے تائیوان میں امن کی حفاظت کرنا ہے: لائی

تائیوان کے صدر لائی چِنگ-تے نے کہا ہے کہ تائیوان کی فوج کا سب سے بڑا مِشن آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کی بھاری ذمہ داری اُٹھانا ہے۔

لائی، جنوبی تائیوان کے شہر کاؤسِیونگ میں اتوار کے روز فوجی اکیڈمی میں اُس کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

اِس اکیڈمی کی بنیاد چین میں کُواومِنتانگ پارٹی نے 1924ء میں رکھی تھی۔ اِس پارٹی کے چینی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ خانہ جنگی ہارنے کے بعد اکیڈمی کو کاؤسِیونگ منتقل کر دیا گیا۔

لائی نے زیرِ تربیت فوجی افسران سے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ فوج کا تعلق کسی فرد یا جماعت سے نہیں ہے، بلکہ یہ تائیوان، عوام اور جمہوریت کی وفادار ہے۔

اُنہوں نے زیرِ تربیت افسران پر زور دیا کہ وہ نئے دور کے چیلنجوں اور مِشن کو پہچانیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ تائیوان کو چین کے طاقتور عروج کا سامنا ہے، جس کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ وہ تائیوان کے الحاق اور جمہوریہؑ چین کے خاتمے کو چینی عوام کا عظیم احیاء سمجھتا ہے۔

لائی نے زیرِ تربیت افسران پر زور دیا کہ وہ فوج کے عقائد کی مضبوطی سے حفاظت کریں، آئینی نظام آزادی اور آزاد جمہوریت کا دفاع کریں اور اس موؑقف پر قائم رہیں کہ جمہوریہؑ چین اور عوامی جمہوریہؑ چین ایک دوسرے کے ماتحت نہیں ہیں۔

اُن کا بیان اِس خیال پر مبنی ہے کہ تائیوان چین سے الگ ہے۔ لائی نے مئی میں اپنے افتتاحی خطاب میں بھی اس بات کا حوالہ دیا تھا۔

چین نے اس کے جواب میں احتجاج کے اظہار کے طور پر تائیوان کے گرد بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کی تھیں۔