نیٹو کا یوکرین کی مزید امداد و تعاون کا عزم

نیٹو اتحاد میں شامل وزرائے دفاع نے یوکرین کے لیے فوجی امداد کو مربوط کرنے میں زیادہ کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے جمعے کو برسلز میں دو روزہ مذاکرات مکمل کیے۔

وزراء روس کو میدان جنگ میں پانسہ پلٹتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اسکی ایک وجہ ان کی جانب سے یوکرین کو اسلحے اور فنڈز کی فراہمی میں تاخیر ہے، اس لیے انہوں نے طویل مدت کے لیے تربیت فراہم کرنے اور ہتھیاروں کی فراہمی کے منصوبے پر بات کرنے کے لیے یہ اجلاس منعقد کیا تھا۔

وہ اپنی کوششوں کو مربوط کرتے ہوئے جرمنی میں ایک کمانڈ پوسٹ پر تقریباً 700 اہلکاروں کو تعینات کریں گے۔ انہیں امید ہے کہ آئندہ ماہ واشنگٹن میں نیٹو رہنماؤں کے اجلاس میں تفصیلات کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا کہ یہ کوششیں نیٹو کو "تنازع کا فریق" نہیں بنائیں گی بلکہ یوکرین کو "اپنے دفاع کے حق کو برقرار رکھنے" کے لیے اس کی حمایت میں اضافہ کریں گی۔

وزراء نے اتفاق کیا کہ جنگ میں یہ "نازک لمحہ" ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف یوکرین کی بقاء بلکہ تمام اتحادی ارکان کی سلامتی بھی داؤ پر لگی ہے۔ تاہم ارکان اسٹولٹن برگ کی اس تجویز پر متفق نہیں ہو سکے کہ اب سے وہ مل کرہر سال 40 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد جاری رکھیں۔

اسی دن روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ماسکو میں وزارت خارجہ کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں انہیں بتایا کہ مغربی ممالک دنیا کو بقول انکے "پوائنٹ آف نو ریٹرن" یعنی ناقابل واپسی مقام کے قریب لا رہے ہیں۔

صدر نے امن مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پیش کیں، جن میں اُن چار خطوں سے یوکرینی فوجیوں کا مکمل انخلا شامل ہے جن کو روس جنگ کے دوران ضم کر چکا ہے اور یہ کہ یوکرین نیٹو میں شامل ہونے کا ارادہ ترک کر دے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کِیف اور مغربی ممالک اس تجویز کو مسترد کرتے ہیں تو "خونریزی" جاری رکھنے کی "سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری" انہی پر عائد ہو گی۔