جی 7 رہنماؤں کا یوکرین کو 50 ارب ڈالر قرض کی فراہمی پر اتفاق

سات ممالک کے گروپ، جی سیون کے رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ یوکرین میں اُن کے اتحادیوں کو ہتھیاروں اور تعمیر نو کے لیے مزید مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے منجمد روسی اثاثوں سے ملنے والی سود کی رقم سے یوکرین کو 50 ارب ڈالر کا قرض فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

رہنماؤں نے جمعرات کو اٹلی کے جنوبی علاقے پُولیہ میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کو اپنے سالانہ سربراہ اجلاس میں خوش آمدید کہا۔ یہ دوسرا G7 اجلاس ہے جس میں صدر زیلنسکی نے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بالمشافہ ملاقاتیں کی ہیں۔

G7 رہنما اس بات پر غور کر رہے تھے کہ 300 ارب ڈالر کے وہ روسی فنڈز کیسے استعمال کیے جائیں جو زیادہ تر یورپی بینکوں میں منجمد کیے گئے ہیں۔ وہ یوکرین کو قرض فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ قرض مذکورہ اثاثوں کے سود سے جی سیون ممالک کو واپس ادا کیا جائے گا۔

سینیئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز، جنگ بندی کے بعد بھی اُس وقت تک منجمد رہیں گے جب تک روسی اپنی جارحیت کے نقصانات کی تلافی نہ کر دیں- عالمی بینک کے تجزیہ کاروں نے اگلے دس سال کے دوران تعمیر نو کی لاگت کا تخمینہ 480 ارب ڈالر سے زیادہ کا لگایا ہے۔

روسی حکام نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی اثاثوں سے آمدنی حاصل کرنا غیر قانونی ہو گا۔