یورپی یونین کی چینی الیکٹرک گاڑیوں پر اضافی سخت محصولات کی تیاری

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 38.1 فیصد تک اضافی ڈیوٹی عائد کرے گی۔

یورپی کمیشن نے یہ اعلان بدھ کے روز کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ 10 فیصد محصولات کے ساتھ نئے عارضی ٹیرف متعارف کرائے جائیں گے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ چین میں تیار کردہ برقی گاڑیاں غیر منصفانہ سبسڈی سے فائدہ اٹھاتی ہیں، جس سے یورپی یونین کے گاڑی سازوں کو ’’معاشی نقصان کا خطرہ‘‘ ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ بات چیت میں موثر حل نہ نکلنے کی صورت میں یہ اقدام 4 جولائی سے نافذ العمل ہوگا۔
اضافی محصولات چین میں کام کرنے والے مغربی مصنوعات سازوں کا بھی احاطہ کرتے ہیں۔

اکتوبر میں کمیشن نے چین میں بنائی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی وجہ سے مارکیٹ میں بگاڑ اور غیر منصفانہ مسابقت پیدا ہوئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ تحقیقات میں سپلائی چین کے ہر مرحلے پر چینی سبسڈی دیے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ چینی برقی گاڑیاں یورپی یونین کی مارکیٹ میں تیزی سے اپنا حصہ بڑھا رہی ہیں اور یورپی یونین کے گاڑی ساز قیمتوں میں اضافہ کرنے سے قاصر ہیں اور نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔

چین نے یورپی یونین کے اعلان پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور جوابی اقدامات کا اشارہ دیا ہے۔

چینی وزارت تجارت کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کو ٹیرف یعنی محصولات میں اضافے پر سخت تشویش اور شدید عدم اطمینان ہے اور چینی ای وی انڈسٹری اس اقدام سے شدید مایوس ہے اور اس کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین یورپی یونین پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی غلطیوں کی اصلاح کرے۔