جاپان میں اسٹریپٹوکوکّل ٹاکسِک شاک سنڈروم کے واقعات ریکارڈ بلندی پر

جاپان میں اسٹریپٹوکوکّل ٹاکسِک شاک سنڈروم یا ایس ٹی ایس ایس، انفیکشن کے واقعات ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ بیکٹیریائی انفیکشن تیزی سے بڑھتا ہے اور جان لیوا ہو سکتا ہے۔

ایس ٹی ایس ایس، بنیادی طور پر "گروپ اے اسٹریپٹوکوکَّس" جرثومے کی وجہ سے ہوتا ہے اور زیادہ تر 30 کے پیٹے والوں یا اِس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ مریضوں کے اعضاء کی بافتیں یا خلیے بے جان ہو سکتے ہیں اور اُن کے متعدد اعضاء ناکارہ ہو سکتے ہیں۔

جاپان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے وبائی امراض کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے 2 جون تک ملک میں اِس مرض سے متاثرہ افراد کی ابتدائی تعداد 977 تھی۔

یہ گزشتہ سال کی اِسی مدّت کے مقابلے میں 2.8 گُنا اضافہ ہے اور پچھلے سال کی مجموعی تعداد 941 سے زیادہ ہے، جو ڈیٹا لینے کے موجودہ طریقۂ کار کے ساتھ ریکارڈ ہونے والی سب سے زیادہ تعداد تھی۔

ٹوکیو ویمنز میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر کِکُوچی کین کا کہنا ہے کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ ایس ٹی ایس ایس بیکٹیریا جسم میں زخم کے ذریعے داخل ہوتا ہے، لیکن بعض صورتوں میں انفیکشن ہونے کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ اِس طرح کی مثالیں موجود ہیں جن میں گِر کر خراشیں لگنے کے بعد علامات تیزی سے پیدا ہو جاتی ہیں۔

پروفیسر کِکُوچی کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ اُن کیلئے خطرے کی گھنٹی بجنا ہے، کیونکہ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ نیا ہو رہا ہے۔

وہ لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ اگر سُوجن تیزی سے پھیل جائے، تیز بخار ہو جائے، یا غنودگی محسوس کریں تو فوری طور پر ایمبولینس بلائیں، کیونکہ اِن علامات کے تدارک کیلئے فوری طبّی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔