کولیسٹرول کی دوا دریافت کرنے والے جاپانی ایندو آکیرا چل بسے

جاپانی بایو کیمسٹ ایندو آکیرا، جن کی کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کی دریافت نے دل کی بیماریوں کی روک تھام اورعلاج میں انقلاب برپا کر دیا تھا، انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 90 برس سال تھی۔

1933 میں شمال مشرقی جاپان کے آکیتا پریفیکچر میں پیدا ہونے والے ایندو آکیرا نے توہوکو یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ایگریکلچر سے گریجویشن کرنے کے بعد ایک ادویات ساز کمپنی میں خدمات انجام دیں۔

1970 کی دہائی کے اوائل میں کمپنی میں کام کرتے ہوئے جناب ایندو نے شریانوں میں سختی پیدا کرنے والا کولیسٹرول بننے کے خلاف موثر ادویات تیار کرنا شروع کیں۔

1973 میں انہوں نے دریافت کیا کہ بلیو مولڈ میں پیدا ہونے والا سٹیٹن نامی مادہ کولیسٹرول کی پیداوار کو روکتا ہے اور خون میں اس کی سطح کو بہت کم کر دیتا ہے۔

پہلی سٹیٹن دوا 1987 میں امریکہ میں آرٹیروسکلروسیس کی دوا کے طور پر فروخت کی گئی۔ دو سال بعد، یہ دوا جاپان میں بھی دستیاب ہوئی۔ ایک موقع پر، سٹیٹن کو دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا کہا جاتا تھا۔

جناب ایندو کی کامیابیوں پر انہیں کئی موقر انعامات سے نوازا گیا۔ انہوں نے 2008 میں امریکہ میں لاسکر ایوارڈ، اور 2017 میں کینیڈا گیئرڈنر انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کیا۔ انہیں 2011 میں جاپان میں پرسن آف کلچرل میرٹ نامی ثقافتی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

جناب ایندو نے ٹوکیو یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی میں ممتاز اعزازی پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس یونیورسٹی میں ماضی میں وہ بطور پروفیسر پڑھایا کرتے تھے۔

آنجہانی سائنسدان کے قریبی ذرائع کے مطابق ان کی موت 5 جون کو ٹوکیو میں دیکھ بھال کے ایک مرکز میں ہوئی۔