جاپان میں دیوالیہ کمپنیوں کی تعداد 12 سال کی بلند ترین سطح پر

ایک سروے کے مطابق، مئی میں جاپان میں دیوالیہ ہونے والی کمپنیوں کی تعداد 12 سالوں میں سب سے بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ کاروبار میں ناکام ہونے والی کمپنیوں کی یہ تعداد ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب مشکلات سے دوچار ان کمپنیوں کے لیے عالمی وبا سے متعلقہ حکومتی اعانت ختم ہونے کے قریب ہے۔

تحقیقی کمپنی تیئکوکُو ڈیٹا بینک کے مطابق، گزشتہ ماہ 1 ہزار 16 کمپنیوں نے دیوالیہ قرار دینے کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔ ایک سال قبل کے مقابلے میں اس تعداد میں 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سروے میں کم از کم ایک کروڑ ین، یا 63 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے قرضوں کے ساتھ دیوالیہ ہونے والی کمپنیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

مئی 2012 کے بعد دیوالیہ ہونے والے کاروباروں کی تعداد پہلی بار 1 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

شعبہ جات کے لحاظ سے، نقل و حمل کی صنعت میں دیوالیہ ہونے والی کمپنیوں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔

ریستوران اور بار کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

دیوالیہ ہونے کے 80 فیصد سے زائد واقعات میں فروخت کی رفتار سست رہی۔

تیئکوکُو ڈیٹا بینک کے مطابق، افرادی قوت کی قلت کے باعث بھی کچھ کاروباروں نے دیوالیہ قرار دینے کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ چھوٹی اور درمیانے سائز کی کمپنیوں کو زیادہ اجرتوں کی پیشکش کرنے اور درکار افرادی قوت کی دستیابی یقینی بنانے کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔