جاپان میں گرتی شرحِ پیدائش کے ممکنہ اثرات، 80 فیصد سے زائد لوگ پریشان: این ایچ کے سروے

این ایچ کے، کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ 80 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان جاپان کی شرحِ پیدائش میں کمی سے معاشرے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں بحران محسوس کرتے ہیں۔

این ایچ کے نے اتوار تک کے سہ روزہ عرصے میں بِلاترتیب فون سروے کیا۔ اُسے فون کیے گئے لوگوں میں سے 1,192 افراد، یعنی 49 فیصد لوگوں کی طرف سے جوابات موصول ہوئے۔

حکومت کی طرف سے گزشتہ ہفتے جاری کردہ اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2023ء میں ملک کی کُل شرحِ پیدائش 1.20 تک گر گئی۔ یہ 1947ء میں ریکارڈ رکھے جانے کے آغاز کے بعد کم ترین شرح ہے۔ یہ شرح بچّوں کی اُس تعداد کو ظاہر کرتی ہے جو متوقع طور پر کسی خاتون کو اُس کی پوری زندگی میں ہوں گے۔

این ایچ کے، کے سروے کے مطابق، 54 فیصد نے گِرتی ہوئی شرحِ پیدائش کے سماجی اثرات کے بارے میں بحران کا ایک گہرا احساس محسوس کیا، جبکہ 31 فیصد نے کہا کہ وہ کسی حد تک بحران محسوس کرتے ہیں۔ چھ فیصد کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ پریشان نہیں ہیں، اور دو فیصد نے کہا کہ وہ قطعی پریشان نہیں ہیں۔