روس کی ٹیکٹیکل نیوکلیئر مشقوں میں بیلاروس شامل

روس کے اتحادی بیلاروس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ملکی افواج ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کے مفروضے کی بنیاد پر روس کی فوجی مشقوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

وزارت نے پیر کو کہا کہ بیلاروس کی مسلح افواج کے یونٹ روسی مشقوں کے دوسرے مرحلے میں حصہ لے رہے ہیں۔

بیلاروس کے وزیر دفاع وکٹر خرینِن نے خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے پر مغرب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما جارحانہ فوجی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور تعمیری بات چیت کے لیے آمادہ نظر نہیں آ رہے۔

جناب خرینِن نے کہا کہ ملک اور ہمسایہ ملک روس دونوں کو لاحق کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے وہ پہلے سے زیادہ پُرعزم ہیں۔

روس کی وزارت دفاع نے گزشتہ ماہ کے آخر میں سدرن ملٹری ڈسٹرکٹ میں مشقوں کے پہلے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ یہ ڈسٹرکٹ یوکرین میں روس کے حملے کے لیے اڈے کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ مشقوں کے دوسرے مرحلے میں بیلاروس کی شمولیت کی امید کی جا رہی تھی۔

اگرچہ روس کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار بیلاروس میں نصب کیے جا چکے ہیں، لیکن روس کے اتحادی ملک کی ایسے ہتھیاروں کی مشقوں میں حصہ لینے کا یہ پہلا موقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔