جاپانی سرکاری یونیورسٹیوں کو مالی 'حد' کا سامنا

جاپان کی سرکاری یونیورسٹیوں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کمزور ین نے ان کی مالی حالت کو آخری حد تک دھکیل دیا ہے۔ تنظیم نے مفاہمت اور حکومتی اعانت میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں ایک ہنگامی بیان جاری کیا۔ 86 سرکاری یونیورسٹیاں اس تنظیم کی رکن ہیں۔

سرکاری یونیورسٹیوں کو جاپانی حکومت کی طرف سے دی جانے والی انتظامی اخراجات کی گرانٹس میں کمی آ رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کمزور ین کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے بجٹ میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

تنظیم نے کہا کہ یونیورسٹیوں نے دیگر بیرونی ذرائع سے آمدنی میں اضافہ کرکے اعلیٰ سطح کی تعلیم اور تحقیقی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس نے کہا کہ ہم اپنی حد کو پہنچ چکے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے حکومت، بلدیات، صنعتی شعبے اور عوام سے مفاہمت اور تعاون کا مطالبہ کیا۔

مالی سال 2024 کے لیے سرکاری یونیورسٹیوں کو دی جانے والی سرکاری اعانت کی کل مالیت تقریباً 18 کھرب ین یا 6.9 ارب ڈالر ہے۔ یہ 20 سال قبل کے مقابلے میں 160 ارب ین یا 13 فیصد سے زیادہ کی کمی ہے۔

تنظیم کے صدر ناگاتا کیوسُکے نے حکومتی اعانت میں اضافے اور مقامی کمیونٹیز سے مالی تعاون کا مطالبہ کیا۔

فِیس بڑھانے کے معاملے پر، ناگاتا نے کہا کہ اس کا فیصلہ ہر یونیورسٹی پر منحصر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ علاقائی فرق اور آمدنی کی مختلف سطحوں کے باعث فیس بڑھانا مشکل ہو گا۔