یورپی پارلیمانی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی کامیابی کا اندازہ

یورپی پارلیمان کے جاری کردہ ابتدائی اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو یورپی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل ہونے کی توقع ہے۔

یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں جمعرات سے اتوار تک انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

فرانس میں، صدر ایمانوئل میکرون کی زیرِ قیادت حکمران اتحاد کی جماعتوں کے مقابلے میں، انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ریلی پارٹی کو بڑی کامیابی ملنے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ وہ یورپی یونین کے حامی صدر میکرون کے حکومتی اتحاد کی نسبت وہ دو گنا سے زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔

فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت یورپی انضمام کو آگے بڑھانے پر یورپی یونین کی مخالفت کرتی ہے۔

یورپی یونین کی 720 نشستوں والی پارلیمان میں، دو گروپوں میں دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں جو یورپی یونین کی ناقد ہیں۔ امکان ہے کہ ان کی نشستوں کی کل تعداد 130 تک بڑھ جائے گی۔

جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی، یا اے ایف ڈی، جو مذکورہ دونوں گروپوں سے وابستہ نہیں، اس کو بھی اپنی نشستوں کی تعداد میں تقریباً 14 تک اضافے کی توقع ہے۔

یورپ نواز وسطی دائیں اور وسطی بائیں بازو کی جماعتوں کے تین بڑے پارلیمانی گروپ اکثریت برقرار رکھنے کے لیے پُر اعتماد ہیں۔ لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ یورپی یونین کی ناقد قوتوں کی کامیابی یورپ کی مستقبل کی سیاسی سمت کو کس طرح متاثر کرے گی۔