ایران میں بڑے اصلاح پسند اور اعتدال پسند صدارتی امیدوار نااہل

ایرانی حکومت نے ان چھ افراد کی فہرست جاری کر دی ہے جنہیں 28 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کھڑے ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ زیادہ تر بڑے اصلاح پسند اور اعتدال پسند درخواست دہندگان کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے اتوار کو صدارتی انتخاب کے لیے امیدواروں کی فہرست کا اعلان کیا۔ یہ انتخاب صدر ابراہیم رئیسی کی گزشتہ ماہ ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاکت کے بعد ہو رہا ہے۔

اسّی افراد نے امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کروائے۔ اسلامی فُقہاء اور دیگر پر مشتمل گارڈین کونسل نے ملک کی اسلامی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وفاداری جیسی اُن کی اہلیت کا جائزہ لینے کے بعد، اِن میں سے صرف چھ امیدواروں کی منظوری دی۔

ان چھ افراد میں پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی شامل ہیں، جن کا تعلق کبھی پاسداران انقلاب اسلامی سے تھا۔ وہ رئیسی جیسے سخت گیر قدامت پسند ہیں، جن کی انتظامیہ کے مغربی ممالک کے ساتھ سخت اختلافات تھے۔

اس فہرست میں ایک اور سخت گیر قدامت پسند سعید جلیلی بھی شامل ہیں۔ وہ قومی دفاع اور خارجہ امور کے انچارج ادارے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری تھے۔

ڈپٹی پارلیمانی اسپیکر اور وزیر صحت مسعود پیزیشکیان کی امیدواری کی بھی منظوری دی گئی۔ وہ مغربی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کے خواہاں ایک اصلاح پسند ہیں۔

لیکن دیگر بڑے اصلاح پسندوں اور اعتدال پسندوں کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر نااہل قرار دے دیا گیا۔

نچلے طبقے میں مقبول سابق صدر محمود احمدی نژاد کو بھی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔