جاپان میں نظرثانی شدہ امیگریشن کنٹرول اینڈ ریفیوجی ریکگنیشن قانون نافذ

جاپان نظرثانی شدہ امیگریشن کنٹرول اینڈ ریفیوجی ریکگنیشن قانون کو پیر کے روز سے نافذ کرنا شروع کر رہا ہے۔ اس قانون کے تحت تین یا اس سے زیادہ مرتبہ پناہ کے حصول کی درخواست دینے والے غیر ملکی شہری اگر کوئی معقول جواز نہیں پیش کرسکیں گے تو انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کچھ غیر ملکی ایسے نظام کا غلط استعمال کرتے ہوئے ملک بدری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جو پناہ کے ان کے دعوے پر کارروائی کے دوران معطل رہتی ہے۔

نظر ثانی شدہ قانون، درخواست دہندگان کو ملک بدری سے پہلے حراستی مراکز کے بجائے مجاز افراد کی نگرانی میں رہنے کی اجازت دیتا ہے۔

امیگریشن سروسز ایجنسی کا کہنا ہے کہ بار بار درخواستیں دینے والے ایسے پناہ گزینوں کو طویل عرصے تک حراست میں رکھا جاتا اور تفصیلی جانچ پڑتال کی جاتی ہے جو جاپان چھوڑکر اپنے آبائی ممالک میں جانے سے انکار کرتے ہیں۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ اِس صورت حال نے اُن لوگوں کی فوری حفاظت کو مشکل بنا دیا تھا جنہیں واقعی تحفظ کی ضرورت ہے۔

تاہم، غیر ملکیوں کی حمایت کرنے والے گروپ، نظر ثانی شدہ قانون میں، پناہ گزینوں کی جانچ میں مناسب شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے میں ناکامی جیسی خامیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت، پناہ کے متلاشیوں کو ان ممالک میں بھیجنے کی اجازت ہو سکتی ہے جہاں ان کے خلاف اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔