ویتنام، بحیرۂ جنوبی چین میں اپنی چوکیاں تیزی سے بڑھا رہا ہے: امریکی تھنک ٹینک

ایک امریکی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ویتنام نے بحیرۂ جنوبی چین میں اپنی چوکیوں کو تیزی سے وسعت دی ہے، جہاں اس ملک کے چین اور دیگر کے ساتھ علاقائی تنازعات ہیں۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے مصنوعی سیاروں سے حاصل کردہ تصاویر اور دیگر ڈیٹا کا اپنا تجزیہ جاری کیا ہے۔

مرکز کا کہنا ہے کہ ویتنام نے مئی تک کے چھ مہینوں کے دوران اسپراٹلے جزائر میں 10 مقامات پر بھرائی کے ذریعے 2.8 مربع کلومیٹر اراضی حاصل کی۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کی مجموعی کھدائی اور زمینی بھرائی 6.5 مربع کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو چین کی جانب سے کھدائی اور بھرائی کے ذریعے بنائے گئے رقبے کے تقریباً 40 فیصد کے مساوی ہے۔

مرکز کا مزید کہنا ہے کہ ویتنام کی چوکیوں پر عارضی ہیلی پیڈ اور بندرگاہوں جیسی تنصیبات نمودار ہوئی ہیں۔

مذکورہ مرکز نشاندہی کرتا ہے کہ ویتنام ان چوکیوں پر قبضہ کر سکتا ہے جن کا کل رقبہ چین کے حاصل کردہ رقبے کے لگ بھگ مساوی ہوتا جا رہا ہے۔

اس مرکز کے محقق ہیریسن پریٹیٹ کا کہنا ہے کہ "ویتنام توسیع شدہ تنصیبات کے ساتھ، متنازع پانیوں میں باقاعدگی سے بڑی تعداد میں بحری جہاز چلانا بھی شروع کر سکتا ہے"۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ’’آنے والے سالوں میں چینی بحری جہازوں کے ساتھ مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے‘‘۔

بیجنگ تقریباً پورے بحیرۂ جنوبی چین کی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔