وائٹ ہاؤس کے سامنے جمع مظاہرین کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جمع ہونے والے ہزاروں مظاہرین نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور اسلامی گروپ حماس کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب نژاد امریکیوں کے گروپس کی اپیلوں کے جواب میں ہفتے کے روز امریکہ بھر سے مظاہرین جمع ہوئے، کیونکہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے سامنے چوک میں جمع مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا "نسل کشی بند کرو" اور "اسرائیل کو فوجی امداد بند کرو"۔

مظاہرین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ وہ خونی ہتھکنڈوں کا خاتمہ اور بچوں کو قتل نہ ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ صدر جو بائیڈن جنگ بندی پر کام کریں اور امریکا کو اسرائیل کی حمایت نہیں کرنی چاہیئے۔

مظاہرے میں شریک ایک خاتون نے غزہ کی پٹی میں روزانہ ضائع ہونے والی کئی جانوں کے بارے میں بات کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں کہ یہ کتنا تباہ کن ہے اور آٹھ ماہ پہلے ’’سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی گئی تھی۔

امریکہ میں بہت سے لوگ اسرائیل کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ لیکن غزہ میں چونکہ لاتعداد عام شہری مارے جا رہے ہیں، اسرائیل کو فوجی مدد فراہم کرنے والے صدر بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کو بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

غزہ کی جنگ نومبر میں منعقد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر ڈال سکتی ہے۔