یوکرین کو توانائی مراکز پر روسی حملوں کے باعث بجلی کی قلت کا سامنا

یوکرین کو روس کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے توانائی کے مراکز پر ہونے والے مسلسل حملوں کے درمیان غالباً ایک مشکل موسمِ گرما کا سامنا ہو گا۔

یوکرین کے وزیرِ اعظم ڈینس شِمیہل نے جمعے کے روز مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ملک کے صرف 27 فیصد تھرمل بجلی گھر ہی کام کرنے کی مناسب حالت میں ہیں۔

توانائی کی یوکرینی سرکاری کمپنی یوکرینرگو کے منتظمِ اعلیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ اس سال بجلی گھروں پر ہونے والا نقصان پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، گرمیوں میں بجلی کی قلّت مزید بڑھ جائے گی۔

عوامی آراء کا سروے کرنے والے ایک یوکرینی ادارے، کِیف انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشیالوجی نے مئی میں کیے گئے سروے کا نتیجہ جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ صدر وولودیمیر زیلنسکی کی حمایت کی شرح 59 فیصد تھی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے آغاز کے فوراً بعد مئی 2022ء میں صدر زیلنسکی کی شرحِ حمایت 90 فیصد تھی۔

مذکورہ ادارے نے کہا کہ بہت سے یوکرینی باشندے زیلنسکی پر اب بھی بھروسہ کرتے ہیں، لیکن حمایت کی شرح میں کمی آ رہی ہے۔

اُس کا کہنا ہے کہ اِس کی بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ لوگوں کو لگتا ہے کہ جنگ کا بوجھ غیرمنصفانہ ہے، اور بدعنوانی سے نبٹنے میں خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی۔

روسی صدر ولادیمیر پُوٹن نے جمعے کے روز اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ مارچ میں ہونے والے طے شُدہ صدارتی انتخابات منعقد نہ ہونے کے بعد زیلنسکی اپنی قانونی حیثیت کھو چکے ہیں۔

روس بظاہر اِس اُمید پر یوکرینی باشندوں میں زیلنسکی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا خواہشمند رہا ہے کہ یہ امر قیادت کی تبدیلی کا باعث بنے گا۔