فرانس کا یوکرین میں فوجی انسٹرکٹر بھیجنے کا امکان

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ممالک کے اتحاد کی تشکیل کو "حتمی شکل" دینا چاہتے ہیں جو یوکرین میں افواج کو تربیت دینے کے لیے فوجی انسٹرکٹر بھیجیں گے۔ انہوں نے جمعہ کے روز پیرس میں یوکرائن کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ایک ملاقات کا انعقاد کیا اور کہا کہ یوکرین کی جانب سے ایسے انسٹرکٹرز کے لیے کی جانے والی درخواست قبول کرنا روس کے ساتھ تنازعے میں اضافے کے مترادف نہیں ہے۔

میکرون کو اس منصوبے کے بارے میں کچھ اتحادی خبردار کر چکے ہیں۔ امریکی اور جرمن رہنماؤں کو اس بات پر تشویش ہے کہ یوکرین کے اندر مغربی فوجی اہلکاروں کی موجودگی تنازع کو بڑھا سکتی ہے۔

روسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر انسٹرکٹر بھیجے گئے تو وہ "جائز ہدف" بن جائیں گے۔

میکرون اور زیلنسکی نے اپنی بات چیت کے بعد ایک نیوز کانفرنس کی، اور میکرون نے صحافیوں کو بتایا کہ یوکرین کی سرزمین پر فوجیوں کو تربیت دینا زیادہ "موثر اور عملی" ہے۔ زیلنسکی نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے بہت سے ممالک پہلے ہی اپنے علاقوں میں یوکرین کی افواج کو تربیت دے چکے ہیں، لیکن "فرق" یہ ہوگا کہ یوکرین میں تربیت کا دورانیہ "چھوٹا" کیا جا سکے گا۔

میکرون نے میراج 2000 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے طیاروں کی تعداد نہیں بتائی ہے۔

زیلنسکی نے فرانسیسی فوجی صنعت کے ایگزیکٹوز سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے یوکرین میں اپنے گروپ کی ذیلی کمپنی بنانے پر اتفاق کیا۔ کمپنیاں ہاؤٹزر اور دیگر جنگی ساز و سامان تیار کرتی ہیں جو پہلے ہی جنگ میں استعمال ہو رہا ہے۔