بائیڈن کی زیلنسکی سے امداد میں تاخیر پر معذرت

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے یوکرینی ہم منصب ولودیمیر زیلنسکی سے روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی فوجی امداد میں تاخیر پر معذرت کی ہے۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات ڈی ڈے کو 80 سال پورے کی مناسبت سے منعقدہ تقریبات کے موقع پر جمعہ کو پیرس میں ہوئی۔

بائیڈن نے کہا کہ امریکی کانگریس کو ’قانون منظور کرنے میں دشواری ہوئی‘ کیونکہ ’انتہائی قدامت پسند‘ ریپبلکن اس اقدام کو ’روکے ہوئے‘ تھے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکی اب بھی یوکرینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے روسی جارحیت کے سامنے ڈٹ جانے پر وہاں کے عوام کی تعریف کی۔ امریکہ اب تک یوکرین کو جنگ میں سب سے زیادہ امداد فراہم کرنے والا ملک ہے۔

بائیڈن نے اس موقع پر اپنے چھٹے امدادی پیکج کا اعلان کیا۔ 22 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی اس اضافی امداد میں ٹینک شکن ہتھیاروں کے ساتھ فضائی دفاع اور توپ خانے کے نظام شامل ہیں۔

زیلنسکی نے بائیڈن کا شکریہ ادا کیا اور سیاسی وابستگی سے بالاتر امریکی حمایت کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ ’تمام امریکی لوگ اُسی طرح یوکرین کا ساتھ دیتے رہیں، جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہوا تھا‘، جب امریکہ نے انسانی جانوں اور یورپ کو بچانے میں مدد کی تھی۔