اقوام متحدہ نے اسرائیل کو بچوں پر ظلم ڈھانے والوں کی فہرست میں ڈال دیا

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک کی عالمی فہرست میں شامل کر لیا ہے، کیونکہ غزہ کی پٹی میں بچوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعہ کو معمول کی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے ایلچی کو مطلع کیا ہے کہ انکا ملک مذکورہ فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ دنیا بھر میں مسلح تنازعات کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کی تحقیقات کرتا ہے تاکہ اجرا کے لیے سالانہ رپورٹ مرتب کی جا سکے۔ دستاویز میں بچوں کو نقصان پہنچانے والے مجرموں کی فہرست شامل ہے۔ تازہ ترین رپورٹ اس ماہ کے آخر میں منظر عام پر لائی جائے گی۔

نئی فہرست میں مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی سے متاثرہ شام اور یمن بھی شامل ہیں۔ روس، جو یوکرین پر اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، گزشتہ سال اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، "اقوام متحدہ نے حماس قاتلوں کی حمایت کرنے والوں کی صف میں کھڑا ہو کر آج خود کو تاریخ کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔" انہوں نے اسرائیلی فوج کو "دنیا کی سب سے با اخلاق فوج" قرار دیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بدھ تک غزہ میں 7,797 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ جو وہاں کی مجموعی ہلاکتوں کے 30 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔