ڈی ڈے کو 80 سال، یادگاری تقریب میں عالمی رہنماؤں اور سابق فوجیوں کی شرکت

80 سال قبل نارمنڈی کے ساحلوں پر دھاوا بولنے والی اتحادی فورسز کے سابق فوجی ڈی ڈے منانے کے لیے فرانس پہنچے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے اس اہم ترین معرکے کی سالانہ یادگاری تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

نازی جرمنی کی افواج کو مار بھگانے کے لیے 6 جون 1944 کو ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فوجی پانچ ساحلوں پر اترے تھے۔

بڑھاپے کے سبب سابق فوجیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ باحیات سابق فوجیوں نے اتحادی ممالک اور جرمنی کے رہنماؤں کے ہمراہ، جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی تقریب میں شرکت کی جس سے ماضی اور حال کے ربط کا اظہار ہوتا ہے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے انداز میں ان روابط کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا، ’’طاقت کے ذریعے سرحدوں کو بدلنے یا تاریخ دوبارہ لکھنے کا دعویٰ کرنے والوں کا سامنا کرتے وقت آئیے یہ ثابت کریں کہ ہم اُن لوگوں کے ہم پلّہ ہیں جو یہاں اترے تھے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریب میں صدر زیلنسکی کی موجودگی اس کا ’’مکمل اور واضح اظہار ہے‘‘۔

امریکی سابق فوجی، امریکی قبرستان میں جمع ہوئے جہاں صدر جو بائیڈن نے اپنے خطاب میں آمروں کے سامنے ہتھیار ڈالنے میں پنہاں خطرات سے متنبہ کیا۔