پاپوا نیو گینی میں لینڈ سلائیڈنگ کے 2 ہفتے بعد ریسکیو آپریشن ختم

پاپوا نیو گینی میں حکام نے بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے کے دو ہفتے بعد، اب تک لاپتہ متعدد افراد کی تلاش کی سرگرمیاں روک دی ہیں۔ ملک کے شمال میں ایک گاؤں گہرے ملبے تلے دب گیا تھا۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ بازیابی کی کارروائیاں اور لاشوں کی تلاش جمعرات کو ختم ہو گئی۔ مزید تودے گرنے اور گلتی سڑتی لاشوں سے بیماریاں پھیلنے کے بھی خدشات ہیں۔ اس علاقے کو اجتماعی مدفن قرار دے دیا گیا ہے۔

یہ سانحہ 24 مئی کو پہاڑی صوبے اینگا میں پیش آیا جو دارالحکومت پورٹ مورسبی سے تقریباً 600 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔

دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، لیکن لینڈ سلائیڈنگ کی شدت کی وجہ سے اصل تعداد جاننا مشکل ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ کم از کم 2,000 افراد ملبے اور کیچڑ کے نیچے دبے ہوئے ہیں، جو کہ اقوام متحدہ کے ادارے کے اندازے 670 سے کہیں زیادہ ہیں۔

پرخطر حالات اور مرکزی شاہراہ و دیگر سڑکیں کٹ کر رہ جانے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا ہوتی رہی ہیں۔

ایک امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے صرف لاٹھیوں کا استعمال کرتے ہوئے خاندان کے افراد اور دیگر کی تلاش جاری رکھی ہے۔ صوبائی حکومت، خطرناک علاقوں میں مقیم ایک ہزار سے زائد رہائشیوں کو انخلاء کا کہہ رہی ہے۔