ناسا، جاکسا کو سیارچوں کے نمونے فراہم کرے گا

ناسا جاپانی خلائی تحقیقی ایجنسی جاکسا کو گزشتہ سال ایک سیارچے سے حاصل کیے گئے نمونے فراہم کرے گا۔ جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی یا جاکسا نے امید ظاہر کی ہے کہ 2019 میں اس کے خلائی جہاز کے ذریعے حاصل کردہ سیارچے کے نمونوں کا اِن کے ساتھ موازنہ کرنے سے نئے سائنسی نتائج سامنے آئیں گے۔

’’اوسائی ریس ریکس‘‘ مشن یا ناسا کے سیارچوں کے نمونوں کے حصول کے منصوبے نے گزشتہ سال ستمبر میں سیارچے ’’بینّو‘‘ سے ریت اور دیگر نمونے حاصل کرکے ایک کپیسول کے ذریعے اُنہیں زمین پر پہنچایا تھا۔ سیارچہ بینّو زمین اور مریخ کے مداروں کے درمیان موجود ہے۔

اس سے قبل ناسا نے کیپسول کی زمین پر واپسی کے ایک سال کے اندر جاکسا کو اس کے کچھ نمونے فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جاکسا کے محققین نے بدھ کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایجنسی ان نمونوں کا تجزیہ کیسے کرے گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ناسا عنقریب اس موسم گرما کے اوائل میں جاکسا کو مجموعی طور پر صفر اعشاریہ چھ گرام وزنی سیمپل فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے آلات پر مشتمل ایک کلین روم قائم کیا گیا ہے جس میں پانی کے مواد اور نامیاتی مادے کو نقصان پہنچائے بنا پیمائش اور تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔

جاکسا کا ہایابُوسا ٹو مشن 2020 میں ریُوگُو سیارچے سے نمونے زمین پر لایا تھا۔

جاکسا کے ایسٹرو میٹریلز سائنس ریسرچ گروپ میں خصوصی طور پر مقرر شدہ پروفیسر تاچی بانا شوگو نے کہا کہ دونوں سیارچوں کے نمونوں میں پانی اور نامیاتی مادے مشترک ہیں، لیکن ان میں کچھ چیزیں مختلف بھی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس یقین کے ساتھ ان نمونوں کا تجزیہ کرنے کے منتظر ہیں کہ ’’ایک جمع ایک سے دو سے زیادہ کا نتیجہ حاصل ہوگا‘‘۔