عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرنے کے 80 فیصد امکانات ہیں: عالمی ادارہ موسمیات

عالمی ادارہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پانچ سال کے اندر اس بات کا 80 فیصد امکان ہے کہ اوسط عالمی درجہ حرارت ’’وقتی طور پر‘‘ قبل از صنعتی دور کی سطح سے ایک اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے گا۔

اقوام متحدہ کے اس ادارے نے دنیا بھر کے موسمیاتی حکام کے اعداد و شمار کی بنیاد پر، 2024 اور 2028 کے درمیان عالمی آب و ہوا کی صورتحال کے تجزیوں کے نتائج اور پیش گوئیوں کو بدھ کے روز شائع کیا۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اِن پانچ سالوں میں ہر سال، زمین کی سطح کے قریب عالمی اوسط درجہ حرارت 1850 سے 1900 کے سالوں کے اوسط سے ایک اعشاریہ ایک سے ایک اعشاریہ نو ڈگری تک زیادہ ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کے 86 فیصد امکانات ہیں کہ مذکورہ سالوں میں سے کم از کم ایک سال 2023 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ کر درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم کرے گا۔ سال 2023 میں، اوسط درجہ حرارت قبل از صنعتی دور کے بیس لائن سے ایک اعشاریہ چار پانچ ڈگری زیادہ تھا۔

2015 کے پیرس معاہدے کے شرکا اوسط درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 تک محدود کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔

ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ قلیل مدتی درجہ حرارت میں اضافہ پیرس معاہدے کے ہدف کی مستقل خلاف ورزی کے مساوی نہیں ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں سے کم از کم ایک سال میں اوسط درجہ حرارت ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سے تجاوز کرنے کے امکانات 2015 کے بعد سے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔