بھارتی انتخابات میں مودی اتحاد کی اکثریت، تیسری مدت کی راہ ہموار

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے عام انتخابات میں ایوان زیریں میں اتحادی جماعتوں کو اکثریت حاصل ہونے کے بعد کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ان کی اپنی پارٹی واحد اکثریتی جماعت کی حیثیت حاصل کرنے سے بہت پیچھے رہ گئی ہے۔

ووٹوں کی گنتی کا عمل منگل کو شروع ہوا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام 543 نشستوں کا اعلان مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح تک کر دیا گیا تھا۔ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت اتحاد نے 293 نشستیں حاصل کیں۔

مودی نے نئی دہلی میں اپنی پارٹی کے صدر دفتر میں کہا، ’’آج کی جیت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جیت ہے‘‘۔
توقع ہے کہ حکمراں اتحاد مودی انتظامیہ کو تیسری مدت کے لئے برقرار رکھنے کے لئے فوری طور پر بات چیت کرے گا۔ تاہم مودی کی بی جے پی پارٹی 240 نشستوں کے ساتھ کافی حد تک محدود ہو گئی ہے۔

دوسری جانب ایگزٹ پولز کی پیشگوئی کے برخلاف اپوزیشن اتحاد نے اپنی نشستوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

تجزیہ کار نشاندہی کرتے ہیں کہ مضبوط شرح نمو کے باوجود خصوصاً دیہی علاقوں کے رائے دہندگان مودی کے دور حکومت میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات اور بدتر ہوتی بے روزگاری سے مطمئن نہیں ہیں۔

حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے راہول گاندھی نے کہا کہ انتخابات نے واضح طور پر ظاہر کر دیا ہے کہ ہندوستانی عوام مودی کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔

توقع ہے کہ راہول گاندھی مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے، جس میں ممکنہ طور پر اقتدار کی تبدیلی کے کیلئے اتحاد کی تشکیل بھی شامل ہے۔