جاپان کی مجموعی شرح پیدائش 2023 میں ریکارڈ کم ترین سطح پر

جاپان کے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال مجموعی شرح پیدائش 1947 سے ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سے کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ فی خاتون کی زندگی کے میں پیدا ہونے والے بچوں کی متوقع تعداد 1.20 تک گر گئی ہے۔

وزارت صحت نے بدھ کے روز 2023 کے لئے آبادی کے اعداد و شمار کا تخمینہ جاری کیا۔

گزشتہ سال مجموعی شرح پیدائش پچھلے سال کے حتمی اعداد و شمار کے مقابلے میں 0.06 پوائنٹس کم تھی۔ یہ سال بہ سال کے اعتبار سے بھی مسلسل آٹھویں گراوٹ ہے۔

تمام پریفیکچروں میں مجموعی شرح پیدائش میں کمی واقع ہوئی۔ سب سے زیادہ کمی کی شرح ٹوکیو میں 0.99 رہی جبکہ اوکیناوا میں کمی کی شرح سب سے کم 1.60 رہی۔

گزشتہ سال پیدا ہونے والے جاپانی بچوں کی تعداد سات لاکھ 27 ہزار 277 تھی۔ یہ ایک سال قبل کے مقابلے میں 43 ہزار 482 کم اور سال 1899 سے شماریاتی ریکارڈ رکھنا شروع ہونے کے بعد سے سب سے کم ہے۔

شادیوں کی تعداد چار لاکھ 74 ہزار 717 تھی۔ اس تعداد میں سال بہ سال کے اعتبار سے 30 ہزار 213 کی کمی ہوئی، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے جاپان میں شادیوں کی کم ترین سطح ہے۔

وزارت کے عہدیداروں نے کہا کہ شرح پیدائش میں کمی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2030 کے عشرے تک کا عرصہ اس رجحان کو تبدیل کرنے کا آخری موقع ہوگا کیونکہ اِس کے بعد نوجوان آبادی میں تیزی سے کمی کا امکان ہے۔