جاپانی انجینئرز نے دنیا کا پہلا لکڑی کا سیٹلائٹ تیار کر لیا

جاپان میں انجینئرز نے دنیا کا پہلا لکڑی سے بنا سیٹلائٹ تیار کیا ہے۔ وہ یہ ثابت کرنے کی امید رکھتے ہیں کہ خلا میں لکڑی استعمال کی جا سکتی ہے۔

کیوتو یونیورسٹی اور ہاؤسنگ مینوفیکچرر سومی تومو فاریسٹری نے مشترکہ طور پر یہ مصنوعی سیارہ بنایا ہے۔ 10 مکعب سینٹی میٹر کے اس سیٹلائٹ کے چھ اطراف میں لکڑی کے پینل لگائے گئے ہیں۔

مصنوعی سیارہ ظاہری شکل و صورت میں تبدیلی اور اندرونی درجہ حرارت کی پیمائش کے لیے آلات سے لیس ہے۔

زیادہ تر سیٹلائٹس ایسے بنائے جاتے ہیں کہ فضا میں دوبارہ داخل ہونے پر جل جاتے ہیں۔

تاہم، دھات سے بنے روایتی سیٹلائٹس دوبارہ داخل ہونے پر ایسے ذرات پیدا کر سکتے ہیں جو موسم اور ٹیلی مواصلات کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ لکڑی کے استعمال سے ان اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے.

لکڑی کے سیٹلائٹ کو ستمبر میں امریکہ سے لانچ کیے جانے والے راکٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی سٹیشن لے جایا جائے گا۔ وہاں سے اسے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے خلا میں چھوڑا جائے گا۔

خلاباز اور کیوتو یونیورسٹی کے گریجویٹ اسکول کے پروفیسر دوئی تاکاؤ کے مطابق، وہ یہ ثابت کرنے کی امید رکھتے ہیں کہ لکڑی خلا میں پائیدار ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ مزید سیٹلائٹ لانچ کرنے پر ان کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔