کرنسی مداخلت 'مؤثر' تھی: جاپانی وزیرِ خزانہ

جاپان کے وزیرِ خزانہ سُوزُوکی شُن اِچی کا کہنا ہے کہ کرنسی منڈی میں ملک کی حالیہ مداخلت سے ین کو مستحکم کرنے میں کچھ اثر پڑا ہے۔

جناب سُوزُوکی، اپنی وزارت کی جانب سے جمعہ کے روز یہ اعتراف کیے جانے کے بعد کہ حکومت اور بینک آف جاپان نے گزشتہ ماہ منڈی میں براہِ راست تقریباً 98 کھرب ین، یا تقریباً 62 ارب ڈالر ڈالے ہیں، منگل کے روز گفتگو کر رہے تھے۔

وزیرِ خزانہ سُوزُوکی نے کہا کہ اِن مداخلتوں کا مقصد ین کی حد سے زیادہ ہِل جُل سے نبٹنا تھا جو کسی حد تک سرمایہ کاروں کی قیاسی سرگرمیوں سے پیدا ہو رہی ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ اُنہیں لگا کہ یہ اقدام کسی حد تک مؤثر رہا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن کی وزارت کرنسی کے اُتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھے گی، اور تمام ضروری اقدامات کرے گی۔

وزیرِ خزانہ نے پانچ گاڑی ساز کمپنیوں کے حفاظتی ٹیسٹوں کے اسکینڈل کا بھی ذکر کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اُنہیں یہ فکر لاحق ہے کہ بہت سی کمپنیاں متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں پیداوار میں بڑے پیمانے پر کٹوتی ہو سکتی ہے۔