حکومتِ جاپان کی جانب سے ٹویوٹا صدر دفتر میں معائنہ شروع

جاپانی حکومت کے حکام، وسطی جاپان کے آئِیچی پریفیکچر میں واقع ٹویوٹا موٹر کے صدر دفتر کا معائنہ کر رہے ہیں۔

یہ تحقیقات ٹویوٹا موٹر اور چار دیگر جاپانی مصنوعات سازوں کے اِن اعترافات کے بعد کی جا رہی ہیں کہ اُنہوں نے اپنی مصنوعات کے تصدیق نامے حاصل کرنے کے لیے کارکردگی کے ٹیسٹوں میں جھوٹ بولا تھا۔

وزارتِ نقل و حمل کی جانب سے منگل کے روز شروع کیا گیا یہ معائنہ "روڈ ٹرَکنگ وہیکل قانون" کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ اس معائنے سے اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کون سے ٹیسٹ کے اعداد و شمار اور متعلقہ اندرونی ضوابط میں جعلسازی کی گئی۔

معائنہ کار انتظامی عہدیداروں اور دیگر اہلکاروں سے تفتیش بھی کر رہے ہیں۔

ٹویوٹا نے تصدیق کی ہے کہ گاڑی کے تصادم کی مصنوعی ماحول میں غیر انسانی ماڈلز کی مدد سے کی گئی آزمائش میں پیدل چلنے والوں کی سر کی چوٹوں سے متعلق اعداد و شمار میں جعلسازی کی گئی تھی۔ یہ ٹیسٹ گاڑیوں کے اُن تین نمونوں کے کیے گئے تھے جن کی اِس وقت پیداوار ہو رہی ہے۔

گاڑی ساز کمپنی نے یہ تصدیق بھی کی کہ اُس نے گاڑی حادثے کے ٹیسٹ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی تیاری میں ہیر پھیر کی تھی۔ اس میں چار نمونوں کی گاڑیاں شامل ہیں، جن کی اب پیداوار نہیں ہو رہی۔

جعلسازی کا اعتراف کرنے والی دیگر کمپنیاں مزدا، یاماہا، ہونڈا اور سُوزُوکی ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ اِن کمپنیوں کے اندر بھی براہِ راست معائنے کرے گی۔

ادارتی نوٹ (تصیح): ابتدائی خبر میں لکھا گیا تھا، ’’ٹویوٹا نے تصدیق کی ہے کہ اس نے گاڑی کے تصادم میں پیدل چلنے والوں کو لگنے والی سر کی چوٹوں سے متعلق اعداد و شمار میں جعلسازی کی تھی‘‘۔ تاہم حقیقی حادثات کے بجائے، مصنوعی ماحول میں غیر انسانی ماڈلز کی مدد سے کی گئی آزمائش سے حاصل کردہ ڈیٹا کو واضح کرنے کے لیے مذکورہ جملے میں تبدیلی کی گئی ہے۔