تیانیمن چوک واقعہ متاثرین کی یاد ٹوکیو میں منائی گئی

35 سال قبل بیجنگ کے تیانیمن چوک پر جمہوریت کے حامی مظاہرین کے خلاف چین کی سخت کاروائی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی ٹوکیو میں یاد منانے کی ایک تقریب میں لوگوں نے شرکت کی۔

ٹوکیو کے چِیودا ضلعے میں پیر کی شب ہونے والی یہ تقریب مذکورہ جان لیوا واقعے کی 35 ویں برسی کے موقع پر منعقد ہوئی۔ اس دعائیہ تقریب کیلیے تقریباً 50 لوگ جمع ہوئے، جن میں انسانی حقوق کے جاپانی کارکن، چینی باشندے اور ہانگ کانگ میں پیدا ہونے والے رہائشی شامل تھے۔

مذکورہ تقریب کے مقام کو "جمہوریت کی دیوی" نامی مجسمے کی ایک چھوٹی سی تصویری نقل سے سجایا گیا تھا- مجسمۂ آزادی کی طرز پر بنا ہوا یہ مجسمہ، احتجاج کے دوران تیانیمن چوک پر لگایا گیا تھا۔

"8964" نمبر بنانے کے لیے موم بتیاں بھی ترتیب دی گئی تھیں، جسے بہت سے لوگ 4 جون 1989ء کو پیش آنے والے واقعے سے جوڑتے ہیں۔

چین سے تعلق رکھنے والے دونگ پینگ نے کہا کہ 35 سال پہلے اُن کی بڑی بہن نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو اس واقعے کو بھلانے کیلیے بیجنگ کی طرف سے کی جانے والی کوشش کو برداشت نہیں کر سکتے۔

ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ایلرِک لی نے کہا کہ قومی سلامتی کے قانون کے نافذ ہونے کے بعد سے ہانگ کانگ میں کوئی آزادی نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اب وہ سمجھ گئے ہیں کہ چینی لوگ اُس وقت کیسا محسوس کرتے تھے۔