تیانیمن چوک واقعے کو 35 سال مکمل، سوگوار خاندانوں کی آوازیں دبا دی گئیں

بیجنگ کے تیانیمن چوک پر جمہوریت کے حامی مظاہرین کے خلاف چین کی ہلاکت خیز سخت کاروائی کی 35 ویں برسی منگل کے روز منائی جا رہی ہے۔

صدر شی جِن پنگ کی زیرِ قیادت انتظامیہ نے کنٹرول سخت کر دیا ہے۔ اُس نے واقعے کی حقیقت جاننے کے سوگوار خاندانوں کے مطالبات کو مکمل طور پر دبا دیا ہے۔

4 جون 1989ء کو چینی فوجی دستوں نے طلباء اور اُن دیگر لوگوں پر گولی چلا دی تھی جو جمہوریت کا مطالبہ کرنے کے لیے چوک کے اندر اور اس کے آس پاس جمع تھے۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ 319 افراد ہلاک ہوئے تھے، لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

متاثرین کے رشتے داروں کے "تیانیمن مَدرز" نامی ایک گروپ نے مئی میں اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کیا تھا جس پر 114 افراد نے دستخط کیے ہیں۔

اس بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ متاثرین کی تعداد اور اُن کے ناموں کا اعلانِ عام کرے، متاثرین اور اُن کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دے اور اس واقعے کی قانونی ذمہ داری پر عمل کرے۔

چینی عوام مذکورہ آن لائن بیان نہیں پڑھ سکتے کیونکہ ملک میں اس تک رسائی بند ہے۔

چین میں اس واقعے پر عوامی سطح پر بحث کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ ’’شورش‘‘ تھی اور اُس نے درست فیصلہ کیا۔