منڈی میں 98 کھرب ین مداخلت کی جاپان کی تصدیق

جاپان کی وزارت خزانہ نے تصدیق کی ہے کہ ملک نے ین کی شرح میں استحکام کے لیے گزشتہ ماہ کے دوران تقریباً 98 کھرب ین زرمبادلہ منڈی میں منتقل کیے۔

وزارت کے حکام نے جمعہ کو انکشاف کیا کہ حکومت اور بینک آف جاپان نے 26 اپریل سے 29 مئی کے درمیان ڈالر کی فروخت اور ین خریدنے میں تقریباً 62 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

جاپانی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 34 سال کی کم ترین سطح پر آگئی تھی، اور ایک موقع پر 160 ین فی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی تھی۔ یہ شرح 29 اپریل کو 154 کی سطح پر واپس آگئی۔

تین دن بعد، 2 مئی کو، ین کی سطح میں اسی طرح کا ایک اور اضافہ دیکھا گیا۔

سرمایہ کاروں نے فوری طور پر یہ قیاس آرائی شروع کر دی کہ حکومت اور مرکزی بینک نے خفیہ مداخلت کی ہے۔

مئی کے اوائل میں جاپانی کرنسی عارضی طور پر 151 کی سطح پر مستحکم ہو گئی تھی۔

لیکن اس میں ایک بار پھر کمی شروع ہو گئی کیونکہ امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں قبل از وقت اضافے کی توقعات ختم ہو گئیں۔
ٹوکیو میں پیر کی شام تک ین 157 کی سطح کے ارد گرد رہا۔

جاپانی حکومت اور بینک آف جاپان نے اس سے قبل ستمبر اور اکتوبر 2022 میں مارکیٹ میں مداخلت پر کل تقریباً 92 کھرب ین خرچ کیے تھے۔