جاپان ہند۔بحرالکاہل میں قائدانہ کردار ادا کرے گا: جاپانی وزیرِ دفاع

جاپان کے وزیرِ دفاع نے ایک ایشیائی سلامتی کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کا ملک ہند۔بحرالکاہل خطے میں "قانون کی حکمرانی پر مبنی آزاد اور کھلے بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کی کوششوں کی قیادت کرنے کے لیے پُرعزم ہے"۔

جناب کیہارا مِنورُو نے ہفتے کے روز سنگاپور میں ایشیاء سیکیورٹی سمٹ سے خطاب کیا، جسے شنگری-لا ڈائیلاگ بھی کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری مشرقی اور جنوبی بحیرۂ چین میں طاقت یا جبر اور اس طرح کی کوششوں کے ذریعے صورتحال میں یکطرفہ تبدیلیوں کو دیکھ رہی ہے۔

جناب کیہارا بظاہر ان علاقوں میں چین کی بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیوں کا حوالہ دے رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ، "آبنائے تائیوان کے آر پار امن اور استحکام بھی اہم ہے"۔

جناب کیہارا نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاپان "اس مقصد میں شریک ممالک کے نیٹ ورک کے ساتھ مل کر کام کرے گا"۔

جناب کیہارا نے جوابی حملے کی صلاحیتوں کو حاصل کرنے کے مجوزہ فیصلے کے بارے میں بات کی، اور وضاحت کی کہ "جاپان کا اپنی دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط بنانے اور اپنے اتحادی و ہم خیال ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ بہتر تعاون کا مقصد خطے میں کشیدگی کو بڑھانا نہیں ہے"۔

انہوں نے مزید کہا، "جاپان سلامتی کے لیے مطلوبہ ماحول پیدا کرنے کی غرض سے طاقت کے ذریعے صورتحال میں یکطرفہ تبدیلیاں لانے کو روکنا چاہتا ہے"۔