جاپان اور جنوبی کوریا اعلیٰ سطحی دفاعی ارکان کے تبادلے بحال کرنے پر متفق

جاپان کے وزیرِ دفاع کِیہارا مِنورُو اور اُن کے جنوبی کوریائی ہم منصب شِن وون سِک نے اعلیٰ دفاعی اہلکاروں کے درمیان تبادلے چھ سال کی معطلی کے بعد دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ 2018ء میں ریڈار کے ایک واقعے کے بعد اِن تبادلوں کو روک دیا گیا تھا۔

کِیہارا اور شِن نے سنگاپور میں شنگری-لا سلامتی فورم کے موقع پر ہفتے کے روز علیحدہ ملاقات کی۔

کِیہارا نے کہا کہ دونوں ملکوں کی قیادت کی وجہ سے اب دوطرفہ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، لہٰذا وہ مستقبل کے دفاعی تعاون پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

دونوں وزرائے دفاع نے جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز اور جنوبی کوریا کی بحریہ کی طرف سے وضع کردہ حفاظتی اقدامات کے متن کی تصدیق کی، تاکہ ریڈار واقعے کے دوبارہ رونُما ہونے کو روکا جا سکے۔

جاپان کا کہنا ہے کہ 2018ء کے واقعے میں جنوبی کوریا کی بحریہ کے ایک تباہ کُن بحری جہاز نے بحیرۂ جاپان کے اُوپر فائر کنٹرول ریڈار کا رُخ ایس ڈی ایف کے ایک گشتی طیارے کی جانب کیا تھا۔ جنوبی کوریا اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

دونوں وزراء نے ہفتے کے روز مذکورہ واقعے کی تفصیلات پر بات نہیں کی۔ اقدامات میں بھی اس کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم، وہ واضح کرتے ہیں کہ اگر ایک فریق دوسرے فریق کے اقدامات کو خطرہ سمجھتا ہے، اور رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو دوسرے فریق پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ جواب دے۔

کِیہارا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دونوں فریقوں نے اس واقعے کے حوالے سے اپنا اپنا مؤقف برقرار رکھا ہے، لیکن ایسا واقعہ دوبارہ رونُما ہونے سے ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ تبادلوں کو دوبارہ شروع کرنے سے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ کے ساتھ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی، اور سلامتی چیلنجوں کے حل کو فروغ ملے گا۔

جنوبی کوریائی وزیرِ دفاع شِن بات چیت کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے احتیاطی اقدامات کی تفصیلات میں نہیں گئے، لیکن کہا کہ وہ جنوبی کوریا کی بحریہ کے بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔

اُنہوں نے جاپان کے ساتھ سلامتی تعاون اور امریکہ کے ساتھ سہ فریقی تعاون کو گہرا کرنے کی اُمید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اِس سے جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان باہمی اعتماد کی بحالی میں مدد ملے گی اور یہ شمالی کوریا کے خطرات کو روکنے میں مددگار ہو گا۔