یورپی ممالک کی یوکرین کو اضافی فوجی امداد کی فراہمی

یورپی ممالک یوکرین کے لیے اپنی فوجی امداد میں اضافہ کر رہے ہیں، کیونکہ روسی افواج اس ملک کے مشرقی علاقوں میں اپنی جارحیت تیز کر رہی ہیں۔

سوئیڈن نے بُدھ کے روز کہا تھا کہ وہ یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے 1 ارب 16 کروڑ یُورو یا تقریباً 1 ارب 26 کروڑ ڈالر کی اضافی امداد فراہم کرے گا۔

سوئیڈن کے اب تک کے اِس سب سے بڑے فوجی امدادی منصوبے میں نگرانی اور کنٹرول کے طیارے شامل ہیں جو فضاء یا سمندر میں دور دراز کے اہداف کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے خبر دی ہے کہ یہ "سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پہلی بار ہوگا کہ یوکرین کے پاس اس طرح کی صلاحیت ہو گی"۔

یہ اخبار نشاندہی کرتا ہے کہ مذکورہ طیارہ اُن F-16 لڑاکا طیاروں کو معلومات بھیج سکتا ہے جو یوکرین کو اتحادیوں سے ملیں گے۔

یوکرینی ذرائع ابلاغ بھی امداد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملکی فوج کو اب تک زمین پر موجود ریڈار نظام کے ساتھ فضائی حدود کی نگرانی کرنا پڑ رہی ہے۔

جرمن وزیرِ دفاع بورِس پسٹوریئس نے جمعرات کے روز یوکرین کیلئے تقریباً 54 کروڑ ڈالر مالیت کے ایک نئے فوجی امدادی منصوبے کا اعلان کیا۔

اس میں فضائی دفاع کے لیے میزائل، بحیرۂ اَسود کے اُوپر جاسوسی کاروائیوں کے لیے ڈرونز، اور توپ خانہ نظام کے فاضل پُرزہ جات شامل ہیں جو پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔