جاپان کی سمندری خوراک کی پیداوار مسلسل دوسرے سال 40 لاکھ ٹن سے کم

جاپان کی وزارتِ ماہی پروری کا کہنا ہے کہ ملک میں سمندری خوراک کی پیداوار گزشتہ سال ایک اور ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ کر، مسلسل دوسرے سال 40 لاکھ ٹن سے کم رہی۔

اِس وزارت نے ابتدائی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن میں اِشی کاوا پریفیکچر کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں جہاں جزیرہ نُما نوتو زلزلے کی وجہ سے سروے میں تاخیر ہوئی ہے۔

2023ء میں زرعی سمندری خوراک سمیت سمندری مصنوعات کی کُل مقدار سال 2022ء کے مقابلے میں 4.9 فیصد یا لگ بھگ ایک لاکھ 90 ہزار ٹن کم ہو کر تقریباً 37 کروڑ 20 لاکھ ٹن رہ گئی۔

وزارت کا کہنا ہے کہ اِشی کاوا کے اعداد و شمار کو شامل کرنے کے بعد بھی توقع ہے کہ یہ حجم اب تک کا کم ترین ہو گا۔

ماہی گیروں کے شکار کی مقدار 4.3 فیصد کم ہو کر تقریباً 28 لاکھ 20 ہزار ٹن رہ گئی۔

جاپان کی فشریز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی حِدّت اور دیگر عوامل کی وجہ سے سمندری ماحول تبدیل ہو رہا ہے، وہ اِس صنعت کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔