جاپان اور چین کے وزرائے دفاع بات چیت کے فروغ پر متفق

جاپانی وزیر دفاع کیہارا مِنورُو نے ہفتے کے روز سنگاپور میں اپنے چینی ہم منصب دونگ جُن سے پہلی ملاقات میں بحیرہ مشرقی چین میں چین کی سمندری سرگرمیوں کے بارے میں ٹوکیو کے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

دونوں نے اُس ہاٹ لائن کو برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا جو گزشتہ سال ان کے دفاعی حکام کے درمیان قائم کی گئی تھی۔ وہ بات چیت اور تبادلوں کو فروغ دینے پر بھی متفق ہوئے۔

کیہارا نے دونوں ممالک کے درمیان ایک سال میں وزارتِ دفاع پہلے اجلاس کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ ان کے درمیان بہت سے سیکورٹی خدشات موجود ہیں۔ انہوں نے جاپانی سرزمین کے قریب چین کی شدت سے فوجی سرگرمیوں اور بحیرہ مشرقی چین میں سمندری سرگرمیوں کا حوالہ دیا، جن میں اوکیناوا پریفیکچر کے سینکاکُو جزائر کے قریبی علاقے بھی شامل ہیں۔

سینکاکو جزائر پر جاپان کا کنٹرول ہے۔ جاپانی حکومت کا مستقل موقف ہے کہ یہ جاپانی سرزمین کا موروثی حصہ ہیں۔ چین اور تائیوان ان پر ملکیتی دعویٰ کرتے ہیں۔

کیہارا نے دونوں ممالک کے متعلقہ دفاعی حکام کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

چین اور فلپائن کے درمیان علاقوں کی ملکیت سے متعلق تنازعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، کیہارا نے بحیرہ جنوبی چین کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اور آبنائے تائیوان میں امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔

دونگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے دفاعی حکام کو ایسی پالیسیوں اور اقدامات پر عمل درآمد کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے جن میں ایک دوسرے کو خطرہ نہ سمجھا جائے، اور یہ کہ وہ کیہارا کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔