جنوبی کوریا نے روس شمالی کوریا اسلحہ تجارت کی مذمت کر دی

جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی جانب سے شمالی کوریا سے حاصل کردہ ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی ہے۔

وزیر دفاع شِن وون سِک نے ہفتے کے روز سنگاپور میں ایشیائی سیکورٹی فورم شنگریلا ڈائیلاگ سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے بڑھتے ہوئے شواہد مل رہے ہیں کہ یوکرین میں روس کے زیر استعمال ہتھیار شمالی کوریا سے غیر قانونی طور پر درآمد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو عالمی برادری کے ساتھ غداری قرار دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے باوجود ایک ایسی حکومت سے ہتھیار حاصل کر رہا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایسی متعدد قراردادوں کی خلاف ورزی کرتی ہے جنہیں پیش کرنے میں خود ماسکو پیش پیش تھا۔

شن نے ماسکو کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ روس کا یوکرین کے خلاف شمالی کوریا کے ہتھیاروں کا استعمال "ایک ناقابل تصور قول و فعل میں انتہائی درجے کا تضاد اور عالمی برادری سے غداری ہے"۔

شن نے کہا کہ ہتھیاروں کے عوض شمالی کوریا کو اپنی فوجی طاقت بڑھانے کے لیے روسی رقم اور ٹیکنالوجی مل رہی ہے، جو بقول وزیر کے عالمی برادری کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے اس تجارت کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔