بائیڈن کا غزہ میں جنگ بندی کی اسرائیلی تجویز کا انکشاف، حماس کا مثبت ردعمل

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اسلامی گروپ حماس کے خلاف جنگ بندی کی نئی تجویز کا انکشاف کیا ہے۔ حماس نے مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

بائیڈن نے جمعہ کے روز وہائٹ ہاؤس میں تین مرحلوں پر مبنی منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ پہلا مرحلہ ہفتوں تک جاری رہے گا۔ اس میں یہ اقدامات شامل ہوں گے: ایک "مکمل اور جامع" جنگ بندی؛ غزہ کے تمام آباد علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا؛ اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں خواتین، بزرگوں اور زخمیوں سمیت یرغمالیوں کی واپسی۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں باقی تمام زندہ یرغمالیوں کا تبادلہ ہوگا اور جارحانہ کارروائیوں کو مستقل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

بائیڈن نے کہا کہ تعمیر نو کا ایک بڑا منصوبہ تیسرے مرحلے میں شروع ہو گا۔

صدر نے کہا کہ اسرائیلی تجویز کو قطر کے ثالثوں نے حماس تک پہنچا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ "سیاسی تصفیہ کی منزل طے کرتا ہے جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے یکساں بہتر مستقبل فراہم کرتا ہے"۔

حماس نے اسی دن کہا کہ اس نے بائیڈن کی تقریر کے مواد کی منظوری دے دی۔ اس نے کہا کہ اگر اسرائیل واضح طور پر اس طرح کا عہد کرتا ہے تو وہ مستقل جنگ بندی، غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء، تعمیر نو، بے گھر لوگوں کی واپسی اور قیدیوں کے تبادلے کی تکمیل پر مبنی کسی بھی تجویز کو "مثبت اور تعمیری" طور پر قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے مذاکراتی ٹیم کو قیدیوں کی رہائی کے حصول کے لیے خاکہ پیش کرنے کا اختیار دیا ہے، جب کہ اس بات پر اصرار کیا کہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک تمام یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کی فوجی و حکومتی صلاحیتوں کے خاتمے سمیت تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے تجویز کردہ خاکہ، جس میں ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک مشروط منتقلی بھی شامل ہے، اسے ان اصولوں کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔