اشیکاوا حکومت کو تاحال زلزلے سے متعلقہ اموات کی روکتھام میں مشکلات

اشیکاوا پریفیکچر کے حکام کو وسطی جاپان میں نئے سال کے دن کے طاقتور زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں آفات سے متعلق اموات اور لوگوں کی سماجی تنہائی کو روکنے کے چیلنج کا آج بھی سامنا ہے۔

جزیرہ نما نوتو میں آئے اس زلزلے کو ہفتہ کے روز پانچ ماہ ہو گئے۔ اشیکاوا کے حکام کا کہنا ہے کہ پریفیکچر میں 260 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ تین دیگر لاپتہ ہیں۔

متاثرین میں سے 30 افراد کی موت گھر سے دور رہنے کے دوران ذہنی دباؤ اور تھکاوٹ جیسی آفت سے متعلقہ وجوہات کے سبب ہوئی۔ ایسی ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

متاثرہ کمیونٹیز میں عارضی رہائش کی تعمیر کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اب تک 4,400 سے زیادہ یونٹ تعمیر کیے جا چکے ہیں، جو پریفیکچر کے لیے درکار تخمینہ شدہ تعداد کا تقریباً 70 فیصد ہیں۔

ایسے وقت میں جب انخلا کرنے والوں کی مزید تعداد عارضی گھروں میں منتقل ہو رہی ہے، اشیکاوا کے حکام زلزلے سے متعلقہ اموات اور تنہائی کے خطرے سے نمٹ رہے ہیں۔

پریفیکچر کے اہلکار صحت عامہ کی نرسوں کو عارضی رہائشگاہوں میں بھیج کر اور عمر رسیدہ افراد کے لیے کھانے اور نہانے کی سہولت فراہم کر کے اپنی کوششوں کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ ایسی جگہیں بنانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں جہاں انخلا کرنے والے افراد میل ملاپ کے لیے جمع ہو سکیں۔

3,000 سے زیادہ لوگ اب بھی انخلائی مراکز میں رہ رہے ہیں اور رہائشگاہوں میں منتقل ہونے کے منتظر ہیں جہاں وہ ذہنی سکون کے ساتھ رہ سکیں۔

پریفیکچر مزید عارضی یونٹوں کی تعمیر میں تیزی لا رہا ہے، لیکن دیگر چیلنجز باقی ہیں، جیسے کہ منہدم مکانات کو مسمار کرنا اور نقصان زدہ مکانات کی جلد از جلد مرمت کرنا۔