طالبان کا چین اور پڑوسیوں کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے فروغ کا ہدف

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنائے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب تین سال قبل اسلام پسند گروپ کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کی معیشت بدستور زبوں حالی کا شکار ہے۔

طالبان کی وزارت تجارت کے ترجمان نے NHK سے بات کی۔ اخوندزادہ عبدالسلام جواد نے بیجنگ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے پختہ ارادے کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام پر بات چیت کر رہے ہیں۔ "یہ بہت اہم ہے، کیونکہ ہم اس فریم ورک کے ذریعے چین اور پوری دنیا کو سامان برآمد کر سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ عبوری حکومت شمالی افغانستان اور چین کے درمیان ایک نیا تجارتی راستہ بنانے اور افغانستان میں نکلنے والے تیل اور معدنی وسائل کی برآمدات کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جواد نے کہا کہ افغانستان اپنے وسطی ایشیائی پڑوسیوں مثلاً ترکمانستان اور قزاقستان کے ساتھ بھی تعاون کو مضبوط بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک مغربی افغانستان میں، وسطی اور جنوبی ایشیا کو ملانے والا بڑے پیمانے کا ایک لاجسٹک مرکز بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔