ٹرمپ مجرم قرار، سزا 11 جولائی کو

ڈونلڈ ٹرمپ کسی جرم میں سزا وار قرار دیے جانے والے پہلے سابق امریکی صدر بن گئے ہیں۔ نیویارک کی ایک جیوری نے انہیں 2016 کے صدارتی انتخابات سے قبل بالغوں کے لیے مخصوص فلموں کی ایک اسٹار کو دی گئی ’ہش منی‘ سے متعلق تمام 34 الزامات میں قصوروار پایا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی سازش کی تھی اور یہ کہ ایک جنسی تعلق سے متعلق خاموشی خریدنے کے لیے اداکار اسٹورمی ڈینیئلز کو 130,000 ڈالر کی ادائیگی چھپا دی تھی۔

ہفتوں پر محیط سماعت اور دو دن کے بحث مباحثے کے بعد، 12 افراد پر مشتمل جیوری نے استغاثہ کے دلائل سے اتفاق کیا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور یہ کہ عدالتی فیصلے کے سیاسی محرکات ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہمارے پورے ملک میں اس وقت دھاندلی کی جا رہی ہے۔ یہ بائیڈن انتظامیہ نے اپنے ایک مخالف، ایک سیاسی مد مقابل کو نقصان پہنچانے یا راہ سے ہٹانے کے لیے کیا ہے"۔

ٹرمپ کو ہر الزام پر پروبیشن سے لے کر چار سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہیں سزا سنانے کی تاریخ 11 جولائی مقرر کی گئی ہے، جسکے چند ہی روز بعد وسکونسن میں ریپبلکن نیشنل کنونشن شروع ہو گا، جہاں ان کے نامزدگی حاصل کرنے کی توقع ہے۔