KDDI کا قمری مواصلاتی انفراسٹرکچر بنانے کا عزم

ایک بڑی جاپانی ٹیلی کام کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ چاند پر مواصلاتی نظام بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ KDDI سنہ 2030 میں خدمات شروع کرنے کی امید رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں چاند سے متعلق مہمات تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہیں۔

کمپنی نے جمعرات کے روز کہا کہ خلا بازوں اور چاند گاڑیوں کے درمیان انتہائی تیز رفتار ڈیٹا مواصلات ممکن بنانے کے لیے وہ قمری انفراسٹرکچر تعمیر کرے گی۔

KDDI کا ہدف ہے کہ سنہ 2028 تک چاند اور زمین کو جوڑنے والے اعلیٰ حجم کے آپٹیکل اور ریڈیو ویو نیٹ ورکس قائم کر دیے جائیں۔

اس منصوبے میں لیزر بیمز کو زمین اور چاند کے درمیان 380,000 کلومیٹر کے پورے فاصلے پر پھیلانے کے لیے ٹیکنالوجی تخلیق کرنا شامل ہے۔

کمپنی بیس اسٹیشن بنانے کے لیے روبوٹس کی تیاری کو تیز کرنا چاہتی ہے۔

KDDI نئے خلائی کاروبار شروع کرنے کے لیے اسٹارٹ اپس یعنی نئی کمپنیوں کے ساتھ بھی شراکت کرے گی۔

KDDI کے منیجنگ ایگزیکٹو آفیسر ماتسُودا ہیرومِچی کا کہنا ہے، "میں جاپانی خلابازوں کو چاند پر اترتے دیکھنے کا شدت سے منتظر ہوں۔ انسان جہاں بھی جاتا ہے، وہاں ہمیشہ اچھے مواصلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم ان کوششوں کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں"۔