شمالی کوریائی میزائل لانچز، جنوبی کوریا کا جوابی اقدامات پر غور

شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کے تازہ ترین تجربات پر غور و خوض کے لیے جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تھے۔ بظاہر شمالی کوریا نے جی پی ایس سگنلز کو منجمد کرنے کی کوشش بھی کی۔

صدارتی قومی سلامتی دفتر کے ارکان اور دیگر حکام نے صورتحال کے تجزیے اور جوابی اقدامات پر غور کرنے کے لیے جمعرات کی صبح ایک اجلاس منعقد کیا۔

جنوبی کوریائی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے جمعرات کی صبح 6 بج کر14 منٹ کے قریب پیونگ یانگ کے قریب سُونان کے علاقے سے 10 سے زیادہ پرجیکٹائل فائر کیے۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تھے۔

میزائل تصور کیے جانے والے ان پروجیکٹائلز کا رخ مبینہ طور پر بحیرہ جاپان کی جانب تھا۔ خیال ہے کہ کم از کم ایک پروجیکٹائل نے 350 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا۔

یونہاپ نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ وہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل لگتے ہیں جنہیں شمالی کوریا ’’سپر لارج راکٹ شیلز‘‘ کہتا ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق فوج نے جمعرات کی صبح شمالی کوریا کی جانب سے جی پی ایس سگنلز کو منجمد کرنے کی کوشش کا بھی پتہ لگایا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سگنلز کو منجمد کرنے کی کوشش شمالی حد بندی لائن کے شمال کی طرف کی گئی، جو بحیرہ زرد میں واقع عملی بین الکوریائی سمندری سرحد ہے۔

فوج کے مطابق بدھ کے روز بھی سگنل منجمد کرنے کے ایسے ہی حملوں کا پتہ لگایا گیا تھا۔ فوج نے کہا کہ جنوبی کوریا کی فورسز پر اِسکا کوئی اثر نہیں پڑا۔ لیکن مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق کچھ سویلین بحری جہازوں کو جی پی ایس کے استعمال میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔