رفح پر فضائی حملوں کی دنیا بھر میں مذمت

اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی عدالت انصاف کی جانب سے جمعے کے روز جاری کیے گئے اُس حکم کی خلاف ورزی کی ہے جس میں اُسے جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں اپنی جارحیت روکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اُس نے اختتام ہفتہ پر ایک فضائی حملہ شروع کیا جس کے بارے میں محصور خطے کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اِس حملے میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اِس حملے کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پیر کے روز اسپین میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اُس عمل میں ’’شریک جرم‘‘ نہیں بننا چاہتے جسے وہ ’’نسل کُشی‘‘ کہتے ہیں۔ اُن کے سیاسی رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے آئرلینڈ اور ناروے کے ہمراہ، اپنے ملک کو اُن 140 سے زائد ملکوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جو فلسطینی ریاست کی آزاد حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ استنبول میں بھی مظاہرین نے اسرائیلی قونصل خانے کی طرف مارچ کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز قانون سازوں کو بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم اِس حملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی فوجوں نے عام شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے ’’بے پناہ کوششیں‘‘ کیں لیکن’’بد قسمتی سے‘‘ کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔