جاپان انسانی حقوق کا قومی ادارہ قائم کرے: اقوام متحدہ ورکنگ گروپ

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایک ورکنگ گروپ نے جاپان پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا ایک قومی ادارہ قائم کرے۔ یہ مطالبہ گروپ کی متعدد سفارشات میں سے ایک ہے۔

کاروباری اور انسانی حقوق کے ورکنگ گروپ نے گزشتہ سال جولائی اور اگست کے درمیان جاپان میں کیے گئے اپنے پہلے سروے کی بنیاد پر ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گروپ کو ’’جاپان میں انسانی حقوق کے قومی ادارے کی عدم موجودگی‘‘ پر گہری تشویش ہے اور ادارے کا موجود نہ ہونا ’’انصاف تک رسائی اور مؤثر داد رسی کی راہ میں بڑی حد تک حائل ہو سکتا ہے‘‘۔ گروپ نے ایسے ادارے کی تشکیل پر زور دیا ہے۔

رپورٹ میں اجرتوں میں صنفی تفریق اور انتظامی عہدوں پر خواتین کی کم نمائندگی کے معاملے کے ساتھ ساتھ ناکارہ فوکوشیما دائی اِچی جوہری بجلی گھر کو تابکاری سے پاک کرنے اور اسے غیر فعال کرنے کے عمل میں شامل کارکنوں کے معاوضوں اور صحت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ اس میں اینیمیشن فلموں کی صنعت میں کام کے طویل اوقات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے ساتھ جاپانی حکومت کی رائے بھی جاری کی گئی ہے۔ ٹوکیو کا کہنا ہے کہ اس کے خیال میں رپورٹ کے کچھ مندرجات ’’ایسے امور پر مشتمل ہیں جو واقعاتی طور پر بظاہر غلط ہیں یا یکطرفہ بیانات ہیں‘‘۔

توقع ہے کہ یہ رپورٹ جون کے آخر میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی جائے گی۔