جاپانی کمپنیوں کی بھارتی طلبا میں دلچسپی

جاپانی کمپنیاں ایک ایسے وقت میں بھارت کی چوٹی کی سائنس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والوں کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جب ملک میں آئی ٹی کارکنوں کی شدید قلت ہے۔

تقریباً 100 جاپانی کمپنیوں کے نمائندوں نے پیر کو ٹوکیو میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، آئی آئی ٹی، سے طلباء کو بھرتی کرنے کے بارے میں مشورے کے لیے ایک سیمینار میں شرکت کی ہے۔

اس تقریب کی میزبانی بھارت کے سفارت خانے نے کی تھی۔

آئی آئی ٹی تکنیکی شعبے میں بھارت کی چوٹی کی یونیورسٹی ہے اور اس کے سابق طلباء میں گوگل اور آئی بی ایم کے سی ای او شامل ہیں۔

بھارت کے سفیر، سبی جارج نے حاضرین کو بتایا کہ بھارتی طلبا امریکہ اور یورپ میں ملازمتیں تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیا جو باصلاحیت تکنیکی کارکنوں کو جاپان کی طرف متوجہ کرے۔

آئی آئی ٹی حیدرآباد کے معاون پروفیسر، فُوجی سُواے کینزو نے طلباء کی پروگرامنگ کی عمدہ صلاحیت کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جاپان کے برعکس بھارت میں یونیورسٹیوں کے ذریعے بھرتی کی جاتی ہے۔

سیمینار میں کاروباری شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد جاننے کے خواہاں تھے کہ بھارتی طلبا بیرون ملک ملازمتیں کیوں تلاش کرتے ہیں اور کیا جاپانی کمپنیاں بھارت میں یونیورسٹی سے نئے فارغ التحصیل ہونے والوں کو بھرتی کر سکتی ہیں۔

ایک پلانٹ کنسٹرکشن کمپنی سے تعلق رکھنے والے عہدیدار نے کہا کہ جاپان کے بلڈنگ سیکٹر کو ڈیزائنرز اور مینجمنٹ انجینئرز کی کمی کا سامنا ہے اور اس شعبے کو غیر ملکی کارکنوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، "میں محسوس کرتا ہوں کہ آئی ٹی میں مہارت کے اعتبار سے بھارت جاپان سے کئی قدم آگے ہے"۔